پچیس سو سال پرانے تابوت سے حنوط شدہ لاش برآمد death body mummy

سڈنی: آسٹریلیا کے سائنس دانوں کو پچیس سو سال پرانے تابوت سے حنوط شدہ لاش کی باقیات ملی ہے، ماضی میں تابوت کو خالی تصور کیا جاتا رہا اور اس پر تحقیق نہیں کی گئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سڈنی یونیورسٹی کی نیکولسن عجائب گھر کے اندر گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے مصر لائے گئے تابوت موجود ہیں، ان میں سے تین تابوتون میں حنوط شدہ لاشیں موجود تھیں۔

گزشتہ برس جب سائنس دانوں نے چوتھا تابوت کھولا تو وہ توقع کررہے تھے کہ انہیں اس میں سے کچھ ہڈیاں ہی مل پائیں گی، مگر وہ اس وقت حیران رہ گئے جب تابوت سے باقیات برآمد ہوئیں۔

اس ٹیم کے ریسرچر جیمی فریسر کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق یہ تابوت خالی بتایا گیا تھا اور فقط کچھ ہی مواد پڑا ملا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر اس حنوط شدہ لاش کی لگ بھگ دس فیصد باقیات موجود ہیں۔

یہ تابوت فرعون کی چھبیسویں نسل کا ہے، فریسر کے مطابق ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ حنوط شدہ لاش تیس برس کے انسان کی تھی، ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ لاش کسی مرد کی تھی یا خاتون کی۔

واضح رہے کہ جرمنی کے ایک میوزم میں ایک قدیم مصری خاتون کی حنوط شدہ لاش موجود ہے، اب محققین اس ممی کا انتہائی باریکی سے معائنہ کررہے ہیں تاکہ صدیوں پہلے جراثیم اور بیماریوں کو جانچا جاسکے۔

خیال رہے کہ مصر میں ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی 3500 سال پرانی حنوط شدہ لاش کو نمائش کے لیے پیش کیا تھا، ماہرین کا ماننا تھا کہ یہ مصر کی شاہی سلطنت کے ایک سینئر اہلکار کی ممی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں