پنجاب میں 9 دن تک بچی سے مبینہ زیادتی، لیگی ایم پی اے ملزمان کا ساتھ دینے میں ملوث

لاہور: پنجاب میں حوا کی ایک اور بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنا دیا گیا، بھکر میں اغوا کے بعد بچی سے نو دن تک مسلسل زیادتی کی گئی جس میں لیگی ایم پی اے کا مبینہ طور پر ملزمان کا ساتھ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھکر کے علاقے وِگ میں ’پروین‘ نامی بچی کو ملزمان نے شادی کی تقریب سے اغوا کیا بعد ازاں ننھی کلی کے ساتھ نو دن تک مسلسل زیادتی کی گئی تاہم زیادتی ثابت ہونے کے باوجود پولیس ابتدائی طور پر کارروائی سے گریز کرتی رہی۔

زیادتی کے بعد مقامی ایم پی اے کے دباؤ پر پہلےتو پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکارکرتی ہی پھر ایف آئی آر کاٹ کر لڑکی کو ڈھونڈے سے انکار کر دیا تاہم بیٹی کی بازیابی کے لئے والدین ن لیگی ایم پی اے غضنفر عباس چھینہ کے پاس پہنچے تو ایم پی اے نے فیصلہ پنچائیت سے کرانے کی تجویزدی۔

بورے والا میں 13 سالہ لڑکا زیادتی کے بعد قتل ، وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

بعد ازاں پنچائیت نے بھی روایتی بےحسی کا مظاہرہ کیا اور مظلوم خاندان کے خلاف فیصلہ دے دیا جس میں کہا گیا کہ اگر متاثرہ خاندان نے عدالت سے رجوع کیا تو دس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا جس کے بعد پولیس نے بھی پنچائیتی فیصلےکو بنیاد بنا کر جعل سازی کے مقدمہ بھی خارج کردیا۔

پنجاب میں دو بچوں سے مبینہ زیادتی، پولیس اہلکارسمیت چارگرفتار

خیال رہے کہ فیصلے کے بعد بچی بازیاب ہوئی تو مجسٹریٹ کےحکم پر طبی معائنہ کرایا گیا جس میں زیادتی ثابت ہوگئی، مظلوم والدین رپورٹ لے کر تھانے پہنچےاور ملزمان کیخلاف کارروائی کی درخواست کی پولیس نے جواب دیامقدمہ تو خارج ہوچکا اب کارروائی نہیں ہوسکی البتہ متاثرہ خاندان نےچیف جسٹس اور وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source by [author_name]

اپنا تبصرہ بھیجیں