نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی واجد ضیاء پرجرح –

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوگئے جبکہ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث واجد ضیاء پرجرح کررہے ہیں۔

خواجہ حارث کی واجد ضیاء پرجرح

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ جیری فری مین کو جے آئی ٹی نے متفقہ رائے سے سوال نامہ بھیجا تھا جس پر خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا جےآئی ٹی نے سوالنامہ بھیجنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا تھا؟۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جیری فری مین کوسوالنامہ بھیجنے پرجے آئی ٹی میں اتفاق رائے تھا، جیری فری مین سے خط وکتابت جے آئی ٹی نے براہ راست نہیں کی، خط وکتابت کے لیے برطانیہ میں سولیسٹرکی خدمات حاصل کی گئیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ مشترکہ فیصلہ کیا جیری فری مین سے براہ راست خط وکتابت نہیں ہوگی، جیری فری مین نے تصدیق کی حسن نواز نے 2 ٹرسٹ ڈیڈ پردستخط کیے۔

واجد ضیاء نے کہا کہ تصدیق کی گئی ٹرسٹ ڈیڈ پر2جنوری 2006 کودستخط کیے گئے، جیری فری مین اس ٹرسٹ ڈیڈ پردستخط کے گواہ ہیں، ٹرسٹ ڈیڈ کومبرکمپنی نیلسن اورنیسکول سے متعلق تھی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ دونوں ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں جیری فری مین کےآفس میں ہیں جس پر نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا کہ آپ نے جیری فری مین کولکھا ثبوت پاکستان لائیں، بیان دیں؟۔

جے آئی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جیری فری مین کو پاکستان آنے کا نہیں کہا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق گلف اسٹیل دبئی میں کب قائم ہوئی، تفتیش، دستاویزات کی روشنی میں گلف اسٹیل 1978 میں بنی، 1978 کے شیئرزسیل کنٹریکٹ دیکھ لیں کیا ان کی تصدیق کرائی۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ گلف اسٹیل کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے تصدیق نہیں کرائی توکیا مندرجات کو درست مانا جائے۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے کہا کہ جےآئی ٹی نے گلف اسٹیل کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کی جس پر نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ 14اپریل 1980 کوحالی اسٹیل بنی مالک سے رابطہ کیا۔

واجد ضیاء نے جواب دیا کہ گلف اسٹیل کے بعد حالی اسٹیل بنی لیکن کوئی رابطہ نہیں کیا، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا اسٹیل مل کے معاہدے کے گواہ عبدالوہاب سے رابطہ کیا؟۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ نہیں گواہ عبدالوہاب سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا، گواہ نمبر2 محمد اکرم سے رابطہ کیا لیکن وہ اس پتے پرموجود نہیں تھے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ 1980کے معاہدے کے مطابق25 فیصد رقم کیش کی صورت میں وصول کی گئی، 1980 کے معاہدے کو پاکستانی قونصلرمنصورحسین نے نوٹرائزکیا تھا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا آپ نے سفارت خانے کے قونصلرمنصورحسین سے رابطہ کیا تھا؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ نہیں منصورحسین سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

واجد ضیاء نے کہا کہ رقم ادا کرنے والےعبداللہ سے ادائیگی سے متعلق بھی رابطہ نہیں کیا، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ 1978 میں75 فیصد شیئرزکی رقم کتنی تھی؟۔

جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ 75 فیصد شیئرزکی رقم 21 ملین درہم تھی، عبدالرحمان کے گلف اسٹیل خریداری، رقم ادائیگی کے بیان کاعلم نہیں ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی والیم میں کتنی دستاویزات پرسپریم کورٹ کی مہرہے جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں جن پرسپریم کورٹ کی مہرہو۔

قطری شہزادے کوسوالنامہ بھیجنےپرجےآئی ٹی ممبران میں اتفاق نہ تھا‘ واجد ضیاء

خیال رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل نے سوال کیا تھا کہ آپ نے یہ فیصلہ کیسے کیا کہ گواہ کوسوالنامہ نہیں بھجوانا جس پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی گواہ کوایڈوانس سوالنامہ نہیں بھیجا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ کوئی قانون بتا دیں جوایڈوانس میں سوالنامہ بھیجنے سے منع کرتا ہو جس پراستغاثہ کے گواہ نے جواب دیا تھا کہ کوئی قانون ایڈوانس میں سوالنامہ بھیجنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا تھا کہ آپ نے کبھی کسی ہائی پروفائل کیس کی تفتیش کی جس پرواجد ضیاء نے جواب دیا تھا کہ بینظیرقتل کیس، غداری کیس، وارکرائم ٹریبونل میں تفتیشی افسررہا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ آپ نے29 سال کی سروس میں پولیس رول1861 پڑھے جس پر جے آئی سربراہ نے جواب دیا تھا کہ کوئی رول ایڈوانس سوالنامہ بھیجنے کی اجازت دیتا ہے نہ روکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source by [author_name]

اپنا تبصرہ بھیجیں