ممتاز اداکار طلعت حسین سے جڑی کچھ دل چسپ باتیں، کچھ مہکتی یادیں

صاحبو، آج تھیٹر کا عالمی دن ہے،ایک قدیم فن سے جڑا دن، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اپنے ذوق سلیم کی تسکین کے لیے کچھ انوکھا کرگزرنے کی چاہ ہزاروں برس قدیم ہے۔

شاید اِس خواہش کا آغاز تب ہوا تھا، جب انسان خوف اور بھوک کے عفریت پر کچھ حد تک قابو پاچکا تھا اور تہذیب کی تعمیر کی جانب پہلا قدم بڑھا رہا تھا۔

آج کے روز یہ موزوں ہے کہ پاکستانی تھیٹر سے جڑے ایک ایسے فن کار کو یاد کیا جائے، جس نے کتنے ہی یادگار کردار نبھائے۔ اپنی آواز، مخصوص انداز سے ہزاروں کو گرویدہ بنایا۔ اداکاری کا علم نئی نسل میں منتقل کیا۔ سوچتا ہوں؛ اگر یہ صاحب نہ ہوتے، تو پاکستانی ڈراما شاید ادھورا رہ جاتا!

پیشہ ورانہ سفر کا آغاز سینما میں گیٹ کیپر کے طور پر کیا۔ بعد میں جب سینما کے مالک کو اُن کی انگریزی بولنے کی قابلیت کا علم ہوا، تو انھیں گیٹ بکنگ کلرک بنا دیا۔

یہ معروف فن کار طلعت حسین کا ذکر ہے، جن سے کبھی تو اُس روزنامہ کے دفتر میں، جس سے میں بہ طور انٹرویوکار ایک عشرے منسلک رہا، ملاقاتیں ہوئیں، کبھی آرٹس کونسل کے چائے خانے میں سامنا ہوا، کبھی ناپا کے سامنے موجود ریسٹورنٹ میں، جو اب نہیں رہا۔ اور ہر بار یہ تجربہ پرمسرت اور یادگار رہا۔

اُنھوں نے ہوائیں، کشکول، گھوڑا گھاس کھاتا ہے، طارق بن زیاد اور ٹائپسٹ جیسے یادگار ڈرامے کیے۔ انسان اور آدمی، گم نام ، لاج اور جناح جیسی فلموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ ہندوستانی فلم سوتن کی بیٹی اور برطانوی سیریز ٹریفک میں بھی خود کو منوایا۔ کئی ملکی و بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے۔

طلعت حسین نے تھیڑ میں خاصا کام کیا۔ لندن میں قیام کے دوران وہ اس فن کے اوج پر نظر آئے۔ اس کلاکار کی زندگی کے کئی پہلو خاصے دل چسپ ہیں۔ آئیں، ایسے ہی چند گوشوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

1945 دہلی میں پیدا ہونے والے اس فن کار کے اہل خانہ نے بٹوارے کے سمے ہجرت کی۔ ان کی والدہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ ان کے ریڈیو کی سمت آنے کے خلاف تھیں، ان کی شدید خواہش تھی کہ بیٹا سول سروس میں جائے، مگر قسمت کو کچھ اور منظو تھا۔ انھوں نے ریڈیوآڈیشن پاس کیا۔ ”اسکول براڈ کاسٹ“ نامی پروگرام سے اپنا فنی سفر شروع کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

پیشہ ورانہ سفر کا آغاز سینما میں گیٹ کیپر کے طور پر کیا۔ بعد میں جب سینما کے مالک کو اُن کی انگریزی بولنے کی قابلیت کا علم ہوا، تو انھیں گیٹ بکنگ کلرک بنا دیا۔

ڈرامے ”ارجمند“ سے 1967میں ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھا۔ پہلے ڈرامے کے فوراً بعد گاڑی خرید لی تھی۔ پھر وہ لندن چلے گئے۔ ایکٹنگ کی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔

لندن سے لوٹ کر انھوں نے ایک روزنامے میں بہ طور سب ایڈیٹر کام کیا۔ ٹی وی پر بہ طور نیوزکاسٹر بھی نظر آہے، جس کے ماہانہ 200 روپے ملا کرتے۔


لندن میں قیام کے دوران بی بی سی کے لیے بھی کام کیا۔ وہاں کی پاکستانی کمیونٹی میں خاصے مقبول تھے، مگر گزر بسر کے لیے انھیں دیگر ملازمتیں بھی کرنی پڑیں۔ وہاں بہ طور ویٹر بھی کام کیا۔

لندن سے لوٹ کر انھوں نے ایک روزنامے میں بہ طور سب ایڈیٹر کام کیا۔ ٹی وی پر بہ حیثیت نیوزکاسٹر بھی نظر آہے، جس کے ماہانہ 200 روپے ملا کرتے۔

طلعت حسین ادب پر بھی بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ لٹریچر کے موضوع پر جم کر گفتگو کرتے ہیں۔ کتابوں سے ان کا پرانا ناتا ہے۔ کراچی کے چند کتب فروش اپنے اس مستقبل گاہک کو خوب پہچانتے ہیں۔

وہ قرة العین حیدر کو اردو کی نمایندہ فکشن نگارسمجھتے ہیں۔ شوکت صدیقی بھی انھیں پسند ہیں۔ بین الاقوامی ادیبوں میں چیخوف، گورکی، ہیمنگ وے کو سراہتے ہیں۔ طلعت حسین نے افسانے بھی لکھے، جو مختلف جرائد میں چھپے۔ انھیں کتابی شکل دینے کا ارادہ ہے۔

کلاسیکی شعرا میں وہ میر کے مداح ہیں۔ اس خیال سے متفق ہیں کہ ہر اچھا شعر، میر کا شعر ہے۔ فیض کو بنیادی طور پر جدید اور معروف معنوں میں رومانوی شاعر ٹھہراتے ہیں۔ جالب، ان کے مطابق پکے انقلابی تھے، ان کے ہاں نعرے بازی تھی۔ قمرجمیل کی شاعری کے معترف ہیں۔



خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں