مذاکرات سے قبل شمالی کوریا پر پابندیاں جاری رہے گی، ڈونلڈ ٹرمپ before-negotiations

واشنگٹن: چین اور شمالی کوریا کے سربراہوں کے بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کم جونگ آن سے مئی میں ہونے والی مُلاقات سے قبل شمالی کوریا پر پابندی اور دباؤ جاری رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کے دوراہ چین اور صدر شی جن پنگ سے ہونے والی ملاقات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرٹویٹ کیا ہے کہ سربراہ شمالی کوریا کا دوراہ چین ’بہت اچھا رہا‘ اب وہ بھی ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہنا تھا کہ مئی میں ہونے والی ملاقات سے قبل شمالی کوریا پر پابندی اور دباؤ جاری رہے گا، اور اب شمالی کوریا کے جوہری ہیتھاروں میں بھی تخفیف کی جاسکتی ہے۔

بدھ کے روز کیے گئے ٹویٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے آنے والی خبروں کا خیر مقدم کیا ہے۔

 

صدر ٹرمپ کا ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’یہ اچھا موقع ہے کہ کم جونگ ان وہ کریں جو شمالی کوریا کے شہریوں اور انسانیت کے لیے درست ہے۔ ’مسٹر کم جونگ میرے ساتھ ملاقات کے بھی منتظر ہیں‘۔

امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ‘شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر کام جاری ہے، اس معاہدے کی تکمیل دنیا کے لیے بہت اچھی ثابت ہوگی۔ ملاقات کے وقت اور جگہ کا انتخاب بعد میں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی پیش کش کو قبول کیا ہے اور دونوں رہنما اگلے مہینے مئی میں ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر چین گئے اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی کی ہے۔

امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان کی ملاقات کے حوالے سے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امید ہے امریکا اور کوریا کے مذاکرات کامیاب ہوں وگرنہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید خراب ہوجائے گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں