فیس بک‘‘ کے بانی مارک زکربرگ کے ایک ہفتے میں10ارب ڈالر ڈوب گئے

مینلوپارک :  ڈیٹا اسکینڈل کے باعث سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کے بانی مارک زکربرگ کے ایک ہفتے میں دس ارب ڈالر ڈوب گئے جبکہ کمپنی کے حصص کی قیمت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

فیس بک ڈیٹالیک اسکینڈل کے باعث مسائل کا شکار ہوگئی، امریکی حکام کی جانب سے تحقیقات کے باعث حصص بازاروں فیس بک کے شیئرز کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

دس دنوں میں شیئر کی قیمت میں پچیس ڈالر کی کمی ہوئی ، اس کمی کا سب سے زیادہ اثر مارک زکربرگ کے اثاثوں پر پڑا، جس کے باعث ایک ہفتے کے اندر ان کے اثاثوں میں دس ارب ڈالرزکا نقصان کی کمی ہوئی۔

زکربرگ چالیس کروڑ حصص کے مالک ہیں اور ان کا شمار دنیا کے امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے بعد فیس بک کو تنقید اور تحقیقات کا سامنا ہے اور فیس بک کے پانچ کروڑ صارفین کے ڈیٹا کا سیاسی مشاورتی ادارے کی جانب سے غلط استعمال سامنے آنے پر تحقیقات جاری ہیں، صارفین کے ڈیٹا کا مبینہ طور پر امریکی صدارتی انتخاب میں استعمال کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں بھی ڈیٹا حاصل کرنے والے سیاسی مشاورتی ادارے کیخلاف تحقیقات جاری ہیں جبکہ فیس بک بانی مارک زکربرگ کو برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے وضاحت کے لئے طلب کرلیا گیا ہے۔



برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق سال 2014 میں کیمبرج اینالیٹیکا نے مبینہ طور پر ایک سافٹ ویئر کے ذریعے فیس بک استعمال کرنے والے 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری کیا۔

دوسری جانب فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنے بیان میں غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں، جس سے صارفین کے اعتماد کوٹھیس پہنچی، اگر ہم عوام کے ڈیٹا کی حفاظت نہیں کر سکتے تو کام چھوڑ دینا چاہیے۔

مارک زکربرگ نے فیس بک کے حوالے سے متعدد تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ ہوا بچنے کیلئے کئی سال پہلے اقدامات کئے تھے، کیمبرج انالیٹیکا کے سلسلے میں بھی ہم نے ٹھوکر کھائی۔ فیس بک کو ایک قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں