طالبہ کے ساتھ زیادتی و قتل، ملزمان آزاد، مظاہرین پرلاٹھی چارج

فیصل آباد : جی سی یونیورسٹی کی طالبہ عابدہ احمد کو اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزمان چھ روز بعد بھی گرفتار نہ ہوسکے، یونیورسٹی طلبہ نے احتجاج کیا تو پولیس نے احتجاجی کیمپ اکھاڑ دیا، عابدہ کو انصاف دوسوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

عابدہ کو درندگی کا نشانہ کس نے بنایا؟ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ایم اے انگلش فورتھ ائیر کی طالبہ عابدہ احمد کو اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چھ ملزمان اب تک پکڑے نہ جا سکے۔

جڑانوالا کی بیس سالہ عابدہ یونیورسٹی سے واپسی پر اغواء کی گئی اورچوتھے دن نالے سے اس کی لاش ملی، میڈیکل رپورٹ نے طالبہ کے ساتھ زیادتی کی تصدیق بھی کردی۔

مقتولہ کا بوڑھا والد احمد علی دہائیاں دیتا رہ گیا لیکن پولیس نے کچھ نہیں کیا، یونیورسٹی کے طلباء احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے ملزمان کی گرفتاری کامطالبہ کیا۔

طالبات پر ظلم ڈھانے والوں کو پکڑنے کے بجائے پولیس نے چناب چوک پرطلباء پر لاٹھی چارج کیا اور ان کا احتجاجی کیمپ اکھاڑ ڈالا، دوسری جانب سوشل میڈیا پر عابدہ کو انصاف دو کے نام سے مہم بھی جاری ہے لیکن کئی دن بعد بھی طالبہ کےقاتل قانون کی گرفت سے دور ہیں۔

اس حوالے سے سی پی او کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد بروقت کارروائی نہ کرنے پر تھانہ گلبرگ کے ایس ایچ او کو معطل کیا جاچکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Source by [author_name]

اپنا تبصرہ بھیجیں