شنگھائی الیکٹرک کا کے الیکٹرک کی خریداری کے لئے نیا خط جاری

کراچی:چینی کمپنی شنگھائی الیکٹرک نے کے الیکٹرک کی خریداری کے لئے ایک بار پھر اظہار دلچسپی کا خط جاری کردیا، کے الیکٹرک نے بھی نیا خط موصول ہونے کی تصدیق کردی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کے الیکٹرک کی فروخت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے تیار ہیں ، کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کی جانب سے اظہار دلچسپی کا نیا خط موصول ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ روز شنگھائی الیکٹرک کے اعلیٰ سطح کے وفد نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی، جس میں وزیر اعظم نے شنگھائی الیکٹرک کی فروخت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کی فروخت میں ’ملٹی ایئر ٹیرف‘کا منظور نہ ہونا بنیادی رکاوٹ ہے جبکہ کے الیکٹرک کی فروخت کے حوالے سے ضروری ریگولیٹری اور دیگر منظوریاں بھی درکار ہیں۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک پر سوئی سدرن گیس کمپنی کے 78ارب روپے کے واجبات ہیں اور ایف آئی اے نے تجویز دی ہے کہ واجبات کی ادائیگی تک کے الیکٹرک کو ٹرانسفر نہ کیا جائے۔

پاکستان میں اس ڈیل کے منیجر عارف حبیب لمیٹڈ نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس حوالے سے نوٹس جاری کردیا ہے، جس میں نیا خط موصول ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 26 مارچ کو شنگھائی الیکٹرک کے اظہار دلچسپی کے خط کی مدت تیسری بار ختم ہوگئی تھی، شنگھائی الیکٹرک, کے الیکٹرک کے 66 فیصد شئیرز خریدنا چاہتی تھی اور کے الیکٹرک کوخریدنے کے اپنے فیصلےپر اب بھی قائم ہے۔

شنگھائی الیکٹرک کی جانب سے کے الیکٹرک کوخط موصول ہوا تھا، جس کے بعد ڈیل منیجرعارف حبیب لمیٹڈ نے ایس ای سی پی سے مزید رہنمائی مانگ لی تھی اور اظہار دلچسپی کے نئے خط کیلئے ایس ای سی پی سے رابطہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 2005 میں نجی شعبے میں تبدیل کردیا گیا تھا اور چار سال بعد دبئی کے ایک گروپ نے اس کے حصص خرید لیے تھے جس کے بعد 2009 سے یہ کمپنی ابراج گروپ کے ماتحت ہوگئی تھی۔

کے الیکٹرک کے چھیاسٹھ فیصد حصص دبئی کی کمپنی ابراج گروپ کے پاس ہیں جبکہ بقیہ چوبیس فیصد حصص حکومت پاکستان کے پاس ہیں، کے الیکٹرک کراچی کو بجلی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے ۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں