سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ Justice Ijazul Ahsan’s

لاہور: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر رات کو اور صبح فائرنگ کی گئی، چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن کے رہائش گاہ پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب اور آج صبح پیش آیا، رات کو فائرنگ میں مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ صبح فائر کی گئی گولی کچن کی کھڑکی پر لگی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کو طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس معاملے کی خود نگرانی کررہے ہیں جبکہ پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہی ہے، پولیس کے مطابق فائرنگ کے لیے نائم ایم ایم پستول استعمال کیا گیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن احتساب عدالت میں پاناما ریفرنس کے نگراں جج ہیں، ہر 15 دن بعد انہیں کیس سے متعلق پیش رفت فراہم کی جاتی ہے، وہ توہین عدالت کیسز سننے والے بینچ میں بھی شامل ہیں، یہی بینچ خواجہ سعد رفیق سے ریلوے کے حسابات بھی طلب کرچکا ہے، جسٹس اعجاز الحسن نااہلی مدت کے تعین سے متعلق بھی سماعت میں شامل رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان نے سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ بار نے فائرنگ کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کے گھروں پر فائرنگ ہونا افسوسناک عمل ہے، ججز کی سیکیورٹی پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد میں بھی ججز کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، ججز انکلیو کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، ایس ایس پی سیکیورٹی کی خود نگرانی کررہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں.

Print Friendly, PDF & Email

Source by [author_name]

اپنا تبصرہ بھیجیں