جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پرفائرنگ، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی تفتیش شروع

لاہور : مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں تفتیش کا عمل جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ کی تفتیش کے لئے پنجاب حکومت کی بنائی گئی جے آئی ٹی نے تحقیقات شروع کردیں، جے آئی ٹی جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں تفتیش کررہی ہے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس محمد طاہر ہیں، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی ، آئی بی، ایم آئی اور فرانزک لیب کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن چوہدری سلطان کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں شمولیت پرسوال اٹھ رہے ہیں، ذرائع کے مطابق چوہدری سلطان شہباز شریف کے قریبی ساتھی ہیں۔

دوسری جانب واقعے کا مقدمہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن تھانے میں درج کرلیا گیا ، مقدمے میں اقدام قتل اوردہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے ماڈل ٹاؤن لاہور میں گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ میں

رہائش گاہ کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ صبح کے وقت فائر کی گئی گولی باورچی خانے کی کھڑکی پر لگی تھی۔



 پولیس کے مطابق جسٹس اعجاز الحسن کے گھر کے صحن سے گولی کا سکہ ملا ہے۔ گولی کا سکہ جسٹس اعجاز الحسن کے دروازے پر لگا۔ گولی کا سکہ قبضہ میں لیکر فرانزک لیب بھجوادیا گیا ہے اور مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ جسٹس اعجازالاحسن پاناماکیس کےنگران جج بھی ہیں،نیب عدالت میں نوازشریف اورمریم کامقدمہ چل رہا ہے،نیب عدالت ہرپندرہ دن بعدانہیں اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن توہین عدالت کے کئی کیسز کی سماعت کرنے والی بینچز میں بھی شامل ہیں،  اسی طرح جسٹس اعجازالاحسن خواجہ سعدرفیق سےریلوےکےحسابات طلب کرنےوالی بینچ ،  پاناماکیس اورنظرثانی کی سماعت کرنےوالی بینچ میں شامل رہے۔

جسٹس اعجازالحسن نااہلی مدت کےتعین سےمتعلق کیس کی بینچ کا بھی حصہ رہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیاپر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Source by [author_name]

اپنا تبصرہ بھیجیں