بال ٹیمپرنگ میں ملوث آسٹریلوی کرکٹرز نے معافی مانگ لی، اسمتھ آبدیدہ ہوگئے

سڈنی: بال ٹیمپرنگ میں ملوث آسٹریلوی کرکٹرز نے معافی مانگ لی، پریس کانفرنس کے دوران اسٹیون اسمتھ آبدیدہ ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بال ٹیمپرنگ میں ملوث تینوں آسٹریلوی کرکٹرز اسٹیون اسمیتھ، ڈیوڈ وارنر اور بین کرافٹ نے معافی مانگ لی، پریس کانفرنس کے دوران اسٹیون اسمتھ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور معافی مانگتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔

سڈنی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسمتھ نے کہا کہ میری قیادت میں بال ٹیمپرنگ ہونا ثابت کرتا ہے کہ مجھ میں قیادت کا فقدان ہے، میں بال ٹیمپرنگ میں ملوث ہونے پر معافی مانگتا ہوں، مجھے کرکٹ سے بہت محبت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بال ٹیمپرنگ میں ملوث ہونے پر مجھے بہت دکھ ہے، میں نے مداحوں کو ہی نہیں اپنے ماں اور باپ کو بھی دکھ پہنچایا ہے، امید ہے کہ مداح مجھے معاف کردیں گے۔

ڈیوڈ وارنر نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام پر اپنے پیغام میں کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی جس کی وجہ سے کرکٹ کو نقصان پہنچا جس پر وہ معافی مانگتے ہیں اور اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بال ٹیمپرنگ کرکٹ پر ایک دھبہ ہے، اس کھیل کو میں بچپن سے بہت پسند کرتا ہوں سمجھ سکتا ہوں کہ شائقین اس حرکت پر غم و غصہ ہیں۔

معطل آسٹریلوی اوپنر بلے باز نے مزید کہا کہ آئندہ چند روز کے بعد وہ اس حوالے سے مزید کچھ کہیں گے تب تک اپنے اہلخانہ اور دوستوں و احباب کے ساتھ وقت گزاروں گا۔

بین کرافٹ نے پرتھ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے پر بہت شرمندگی محسوس کررہا ہوں، جس پر معافی کا طلب گار ہوں اور اپنے کیے پر بہت مایوسی ہوئی ہے۔

25 سالہ کرکٹر کا کہنا تھا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ میری وجہ سے بہت سے لوگ مایوس ہیں اور ایسے لوگوں سے معافی مانگتا ہوں اس صورتحال کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔

کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے کوچ ڈیرن لیمن کو تمام تر الزامات میں کلین چٹ دے دی گئی ہے تاہم ڈیرن لیمن نے جنوبی افریقہ کے خلاف جاری چوتھے ٹیسٹ کے بعد مزید ٹیم کی کوچنگ سے معذرت کرلی ہے۔

واضح رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وانر پر ایک، ایک سال اور کیمرون بین کرافٹ 9 ماہ کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور جنوبی افریقہ میں جاری ٹیسٹ سیریز نے تینوں کرکترز کو واپس آسٹریلیا بلا لیا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email



Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں