ایمسٹرڈم میں متنازعہ ایجاد ’خودکشی کی مشین‘ کی نمائش Amsterdam

ایمسٹرڈم: ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں متنازعہ ایجاد کی پہلی بار عوامی نمائش کی گئی جس کے ذریعے اپنی زندگی سے پریشان انسان محض ایک بٹن دبا کر خودکشی کرسکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس متنازعہ ایجاد مشین کی نمائش ڈچ شہر میں منعقدہ ایک ’جنازہ شو‘ میں کی گئی، اس نمائش کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

خودکشی کی اس مشین کا نام ’سارکو‘ بتایا جاتا ہے جو انگریزی زبان کے لفظ ’سارکوفیگس‘ کا مخفف ہے، جس کا مطلب تابوت ہوتا ہے، مشین تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کی گئی ہے، مشین کو آسٹریلیا کے شہری فیلپ نیچکے نے ڈچ ڈیزائنر کی مدد سے تیار کیا ہے۔

مشین میں ایک تابوت میں لگایا گیا ہے جسے ضرورت کے وقت مشین سے علیحدہ بھی کیا جاسکتا ہے، سارکو کے ساتھ گیس کا ایک سلینڈر نصب ہوتا ہے اور خودکشی کرنے کا فیصلہ کرنے والا کوئی بھی انسان اس کے اندر بیٹھ کر محض ایک بٹن دبا کر چند ہی لمحوں میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

سارکو کے آسٹریلوی موجد فیلپ نیچکے جو قتلِ رحم کو قانونی قرار دینے کے لیے اپنی برسوں پر محیط کوششوں کی وجہ سے ’ڈاکٹر ڈیتھ‘ بھی کہلائے جاتے ہیں، ڈاکٹر ڈیتھ کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہے وہ محض ایک بٹن دبا کر خودکشی کرسکتا ہے۔

خودکشی کرنے والا شخص جب اس مشین میں بیٹھتا ہے تو یہ مشین نائٹروجن گیس سے بھر جاتی ہے، اس گیس کی وجہ سے پہلے تو مشین کے اندر بیٹھا شخص غنودگی محسوس کرتا ہے، پھر وہ جلد ہی بے ہوش ہوجاتا ہے اور یوں بغیر کسی تکلیف کے اسی بے ہوشی کی حالت میں کچھ ہی دیر میں اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں