آسٹریلوی کھلاڑی نے کس طرح بال ٹیمپرنگ کی اور کس طرح گھبراہٹ میں پکڑے گئے؟ ball tampering

جوہانسبرگ: آسٹریلیا کے کرکٹر کیمرون بین کرافٹ جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے کیمروں کی نظروں سے بچ سکتے تھے اگر وہ ٹیمپرنگ کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیپ کو ٹراؤزر کے اندر نہ ڈالتے۔

میچ کو براڈ کاسٹ کرنے والے چینل سپر اسپورٹس پروڈکشن کے سربراہ ایلن نائیکر وہ شخص ہیں جنہوں نے کرکٹ کی تاریخ کا یہ بڑا اسکینڈل سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے آسٹریلوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شروع میں دیکھا تھا کہ کیمرون بین کرافٹ کے ہاتھ میں کچھ ہے اور اسے انہوں نے بعد میں جیب میں رکھا لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چیز ہے لیکن جب بین کرافٹ نے گھبرا کر اسے اپنے تراؤزر میں چھپانے کی کوشش کی تو اس وقت ہمیں پیلے رنگ کی ٹیپ دکھائی دی۔

جب اسٹیڈیم میں نصب ٹی وی اسکرین پر کیمرون بین کرافٹ کی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کی فوٹیج نشر کی گئی تو امپائروں نے انہیں بلایا اور اس بارے میں پوچھ گچھ کی تو بین کرافٹ نے جیب سے ایک کپڑا نکال کر دکھادیا جو دھوپ کی عینک صاف کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس پر امپائر مطمئن بھی ہوگئے تو لیکن بعد میں جب آسٹریلوی کرکٹر نے وہ پیلی ٹیپ جیب سے نکال کر ٹراؤزر میں چھپانے کی کوشش کی تو پروڈکشن ٹیم کو ان پر شک ہوا اور انہوں نے زوم کرکے یہ منظر اسکرین پر دکھادیا۔

بین کرافٹ کو جب امپائر نے بلایا تو ان کی جیب میں وہ پیلی چیز موجود تھی تاہم انہوں نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری جیب سے کپڑا نکال کر دکھا کر امپائروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ بعد میں پیلی چیز کو چھپا دیا جائے۔

نائیکر نے کہا کہ ہمارے کیمرا مین نے بڑی ہوشیاری سے ڈریسنگ روم میں بیٹھے کوچنگ اسٹاف کو فوکس کیا اور وہاں کوچ ڈیرن لیمن واکی ٹاکی پر گراؤنڈ میں موجود کھلاڑی ہیڈزکوم سے بات کرتے نظر آئے اور وہ بھاگتے ہوئے بین کرافٹ کے پاس گئے اور اس سے بات کی، اس کے بعد وہ گھبرا گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف کیمروں کے ذریعے آسٹریلوی کرکٹرز کا پیچھا کررہے تھے اگر کوئی جنوبی افریقی کرکٹرز بھی اس طرح کی بال ٹیمپرنگ کرتے نظر آتا تو ہم اس کی فوٹیج بھی اسی طرح نشر کرتے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بال ٹیمپرنگ ثابت ہونے پر آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ پر میچ فیس کا سو فیصد جرمانہ اور ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی عائد کردی گئی جبکہ کیمرون بینکرافٹ پر میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ اور تین پوائئنٹس میں بھی کمی کردی گئی ہے۔

کرکٹر آسٹریلیا کی جانب سے اسٹیون اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور بین کرافٹ کو معطل کردیا گیا ہے اور تینوں کھلاڑی جنوبی افریقہ میں جاری ٹیسٹ سیریز چھوڑ کر آسٹریلیا واپس پہنچ گئے ہیں اور آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ان کی سزا کا اعلان متوقع ہے۔

یاد رہے کہ 2010 میں اسٹیون اسمتھ اور ٹیم پین نے ایک ساتھ ٹیسٹ ڈیبیو پاکستان کے خلاف میچ سے کیا تھا، اب اسٹیون اسمتھ کی بال ٹیمپرنگ کیس میں معطلی کے بعد وکٹ کیپر بلے باز ٹم پین آسٹریلوی ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں