آئی ایم ایف سے قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں، گورنر سندھ imf lawn is not a bid thing

کراچی: گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو پیسوں کی ضرورت ہے تو آئی ایم ایف کے پاس جانا اور قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں ہے، ہم مستقبل میں ایک مضبوط ملک بننے جارہے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ سیاسی و دیگر صورتحال کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان پیدا ہوا ورنہ 2017 میں پی ایس ایکس نے 50 ہزار پوائنٹس کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

مزید پڑھیں:  آئی ایم ایف کی پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی

اُن کا کہنا تھا کہ  دھرنا، پاناما کرائسز نے 2017 میں ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے، سپریم کورٹ سے منتخب وزیراعظم کے خلاف آنے والے فیصلے کے بعد سرمایہ کار بھی بہت محتاط نظر آنے لگے۔

محمد زبیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مستقبل میں ایک مضبوط معاشی ملک بننے جارہا ہے، عام انتخابات کے بعد ملکی معیشت کے اعداد و شمار میں بہت زیادہ بہتری کی امید ہے۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قرضے اور پیسوں کی ضرورت ہےتو آئی ایم ایف کےپاس جانا کوئی بری بات نہیں، ایک وقت آئے گا جب ہم قرضوں سے جان چھڑا لیں گے، اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی سب سے بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے، اب وقت ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کے لیے نئی پروڈکٹس متعارف کرائی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نے آئی ایم ایف سے گیس اور بجلی مہنگی کرنے کا وعدہ کرلیا

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے 16 مارچ کو ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کا انکشاف سامنے آئی تھا، رپورٹ کے مطابق سن 2020 تک پاکستان پر قرضوں کا حجم 114 ارب ڈالر تک بڑھ جائے گا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے کی رپورٹ کے مطابق رواں برس 2018 میں قرضوں کا حجم 93 ارب 27 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جبکہ رواں برس پاکستان کو 7 ارب 73 کروڑ ڈالر کی قرضۃ اقساط کی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں