انسانی تاریخ کی ابتدا سے جاری فن –

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج تھیٹر کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد تھیٹر پر ہونے والے ڈرامے، رقص اور موسیقی کے ذریعے دنیا بھر میں نظریات، خیالات اور موضوعات کا تبادلہ کرنا ہے‘ وقت بدلنے کے ساتھ تھیٹر بھی اپنی جہت تبدیل کررہا ہے۔

تھیٹر ڈرامے کو ناٹک رچانا، سوانگ بھرنا یا تمثیل نگاری بھی کہا جاتا ہے۔ انسان اس بات سے لاعلم ہے کہ تاریخ انسانی کا پہلا ڈرامہ کب پیش کیا گیا تاہم دنیا کی تمام تہذیبوں، رومی، یونانی، چینی، جاپانی اور افریقی تہذیبوں میں تھیٹر کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔

برصغیرکا تھیٹر


برصغیر میں تھیٹر کی ابتدا سنسکرت تھیٹر سے ہوئی۔ اس وقت بادشاہوں کے زیر سرپرستی مذہبی داستانوں پر مبنی کھیل پیش کیے جاتے تھے جن کا مقصد تفریح اور تعلیم دونوں تھا۔اس زمانے کا ایک معروف نام کالی داس کا ہے جن کے لکھے گئے ڈرامے’شکنتلا‘نے ہر دور اور تہذیب کے ڈرامے پر اپنے اثرات مرتب کیے۔

شکنتلا ڈرامے سے ماخوذ عکس

سنہ 1855 میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ نے آغا حسن امانت کا تحریر کردہ ڈرامہ اندر سبھا اسٹیج کیا۔ یہ ایک پری جمال اور شہزادہ گلفام کی کہانی پر مبنی منظوم ڈرامہ تھا۔بعد ازاں اس تھیٹر نے پارسی تھیٹر کی صورت اختیار کی جو تقریباً ایک صدی تک برصغیر پر راج کرتا رہا۔ پارسی تھیٹر میں داستانوں اور سماجی کہانیوں کا امتزاج پیش کیا گیا۔

ملزم یامجرم- کسی کی زندگی داؤ پر ہے

آغا حشر کا ڈرامہ یہودی کی لڑکی

برطانوی راج کے دور میں تھیٹر داستانوں اور تصوراتی کہانیوں سے نکل کر عام حقائق اور غریبوں کے مصائب کو پیش کرنے لگا۔پارسی تھیٹر کے دور کا ایک مشہور و معروف نام آغا حشر کاشمیری ہیں۔ انہیں اردو زبان کا شیکسپئیر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے منظوم ڈرامے لکھے‘ جن میں سے بیشتر فارسی، انگریزی ادب اور ہندو دیو مالا سے متاثر تھے۔

آغا حشر کے ڈرامے ’یہودی کی لڑکی‘ کا منظر

بیسویں صدی کے وسط میں تھیٹر میں امتیاز علی تاج، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، رفیع پیر اور اپندرناتھ اشک کے ڈرامے پیش کیے جانے لگے۔ سنہ 1932 میں امتیاز علی تاج کا تحریر کردہ ڈرامہ انار کلی اردو ڈرامے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔موجودہ دور میں پاکستان میں ہونے والا تھیٹر اپنے منفرد موضوعات، ہدایت کاری، لائٹنگ، اور پیشکش کے حوالے سے باشعور شائقین کے لیے کشش رکھتا ہے۔

تھیٹر میں نئی جہت


گزشتہ سال لندن میں پیش کیے جانے والے ایک ڈرامے میں روبوٹ اداکار کو پیش کر کے اس شعبے میں نئی جہت اور نئی جدت پیش کردی گئی۔ ڈرامے میں اداکاری کرنے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ گو روبوٹ انسانوں جیسے تاثرات تو نہیں دے سکتا، تاہم اداکاری کے شعبے میں سائنسی مشین کی شمولیت فن، محبت اور جدید ٹیکنالوجی کا بہترین امتزاج ہے۔ لندن کے بات جاپان میں بھی اس جہت ک بھرپور پذیرائی ملی اور جاپانی تھیڑ میں روبوٹ کا بکثرت استعمال دیکھنے میں آیا ہے۔

جاپانی تھیٹر کا ایک منظر

یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی جدید فلمی دنیا میں بھی تھیٹر اپنے آپ میں ایک سحر رکھتا ہے اور اس کے اداکار و فنکار ‘ اپنے چہرے کے اتار چڑھاؤ ‘ ڈائیلاگ کی ادائیگی اور نپی تلی حرکات و سکنات سے جو ماحول تشکیل دیتے ہیں ‘ وہ ماحول دیکھنے والے کو مبہوت کردیتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں