انتہاپسند ہندوؤں کی آصفہ بانو کی وکیل کو زیادتی اور قتل کی دھمکیاں

سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو سے زیادتی اورقتل کے ملزموں کوکیفرکردارتک پہنچانے کے لئے احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، انتہا پسند ہندو آصفہ بانو کی وکیل دپیکا سنگھ کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کی دھمکیوں پر اتر آئے۔

تفصیلات کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کی درندگی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ آصفہ بانو  مرنے کے بعد بھی انصاف سے محروم ہے، معصوم بچی آصفہ بانو کو انصاف دینے کے لئے وادی کشمیر کے چپے چپے میں مظاہرے جاری ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسندوں کی جانب سے آصفہ بانو کی وکیل کو زیادتی اور قتل کی دھمکیاں مل رہی ہے۔

وکیل آصفہ بانو دپیکا سنگھ نے دھمکیوں کے بعد سپریم کورٹ سےسیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ مجھےاغوا،قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،
ہوسکتا ہے مجھےعدالت میں کیس لڑنے سے بھی روک دیا جائے۔

یاد رہے کہ آصفہ بانوکے والدین کوبھی قتل کے بعد دھمکیاں ملنے پراپنا آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں چرواہے کی بیٹی آصفہ بانو کو جنوری میں مویشی چرانے گئی تھی، جسے سات ہندوپولیس اہلکاروں نے اغواکیا اور مندرمیں قید کرکے چار روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کرکے جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔



آصفہ بانو کے قتل پر کشمیری سراپا احتجاج اور مجرموں کو فوری گرفتار کر کے پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ پوری دنیا بھارت سے مطالبہ کررہی ہے کہ آصفہ بانوکوانصاف دو۔

آصفہ بانو کے والدین نے پولیس اورانتظامیہ کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ سالہ معصوم بچی نے ان کا کیا بگاڑا تھا ۔

بالی وُڈ اداکار انوشکا شرما ، پریانکا چوپڑا ، نواز الدین صدیقی ،زائرہ وسیم اور دیگر نے مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں