امریکا نے ساوتھ کوریا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرلیا us-new-deal -south-korea

واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا ساتھ ہونے والے پہلے تجارتی معاہدے میں ترمیم کے بعد دستخط کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے دور رساں ثابت ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور  جنوبی کوریا کے درمیان سن 2012 میں ہونے والے تجارتی معاہدے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے‘ امریکا کی جانب سے معاہدے میں ترمیم کے بعد جنوبی کوریا کو متعدد رعایتیں ملیں گی۔

امریکا کے اعلیٰ عہدار کا کہنا ہے کہ سن 2012 میں ہونے والے تجارتی معاہدے کو صدر ٹرمپ نے امریکی تجارت و معیشت کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ البتہ یہ معاہدہ حالیہ ترامیم کے بعد دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے دور رساں اور تخلیقی ثابت ہوگا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والا معاہدہ امریکی صدر کے اپنی عوام سے کیے گئے وعدوں کی ایک مثال ہے جس کے ذریعے عوام کو روز گار کے مزید مواقع فراہم ہوں گے۔

امریکی صدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے ہونے میں معاہدے میں گاڑیوں کی درآمدات کے حوالے سے کچھ اہم ترامیم کی گئی ہیں جس کے بعد امریکی کمپنیوں کو سال میں 50000 گاڑیاں برآمد کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ اس سے پہلے صرف 25000 گاڑیاں برآمد کرنے کی اجازت تھی۔

ترجمان نے کہا کہ امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان ہونے والے معاہدے میں ایلومینیم اور لوہے کی درآمدات پر نئے محصولات عائد کئے گئے ہیں، جس کے تحت ساوتھ کوریا ایلومینیم کی درآمد میں دس فیصد جبکہ لوہے کی درآمد کے لیے 25 فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تجارتی معاہدے کے تحت ساوتھ کوریا کو لوہے کی درآمد کے میں سالانہ 70 فیصد استثنیٰ حاصل ہوگا۔

البتہ ماہرین اقتصادیات کا کہنا تھا کہ امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان معاہدے میں ہونے والی حالیہ ترامیم سے کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا۔ گاڑیوں کی درآمدات کا کوٹا بڑھانے سے بھی گاڑیوں کی تجارت میں واضح اضافہ نہیں ہوگا، کیوں کہ گذشتہ سال بھی امریکی کار ساز کمپنیوں نے ساوتھ کوریا میں 11000 سے زائد گاڑیوں کی فروخت نہیں تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں