اسرائیل کی فائرنگ سے کسان شہید‘ درجنوں زخمی –

ٍمشرقی یروشلم: غزہ میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری سے ایک فلسطینی کسان شہید ہوگیا ہے‘ اسرائیل کی جانب سے یہ گولہ باری فلسطینیوں کی جانب سے بارڈر پر اعلان کردہ احتجاج شروع کرنے سے محض چند گھنٹے قبل کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطینی کسان کی شہادت کا واقعہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس نامی قصبے کے قریب پیش آیا‘ جہاں اسرائیل نے بنا کسی سبب گولہ باری کی جس میں ایک کسان نشانہ بن گیا۔

اسرائیلی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کے ٹینک نے دو مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا ہے جو کہ سیکیورٹی باڑھ کے قریب مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث تھے‘ تاہم فلسطین نے اسرائیلی بیان کو مسترد کرتے ہوئے گولہ باری میں شہید ہونے والے شخص کو کسان قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی آج سے آئندہ چھ ہفتوں کے لیے اسرائیلی بارڈر پر مظاہرہ کیمپ لگارہے ہیں‘ جس کا مقصد فلسطینیوں کا اپنی سرزمین پر واپس لوٹنے کے لیے پر امن مظاہر ہ کرنا ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ درجنوں فلسطینی شہری غاصب اسرائیلی قوتوں کی فائرنگ سے زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے شمالی غزہ کے علاقے جبلیہ اور جنوبی غزہ کے علاقے رفاہ میں بھی فائرنگ کی گئی ہے۔

اسرائیلی افواج نے غزہ بارڈر کو ’ نوگو زون‘ بنا رکھا ہے ‘ اور وہ اس کا سبب سیکیورٹی خدشات کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو تنبیہہ کی ہے کہ سیکیورٹی باڑھ سے ہر صورت دور رہا جائے بصورت دیگر انہیں نشانہ بنا یا جائےگا۔

دوسری جانب فلسطین کے آزادی کے لیے متحرک تنظیم ’حماس‘ نے متنبہ کیا ہے کہ کسان کو نشانہ بنانا درحقیقت فلسطینی عوام کو اشتعال دلانے کی مذموم کوشش ہے اور اس طرح سے عوام کو پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف احتجاج میں شرکت نہ کریں۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ احتجاج کا مقصد جان بوجھ کر اسرائیل کے ساتھ تصادم کرنا ہے اور کسی بھی قسم کے مسلح تصادم کی ذمہ داری مکمل طور پر حما س اور ا ن کا ساتھ دینے والی جماعتیں ہوں گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل ایک طویل عرصے سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے‘ ایک جانب تو اسرائیل ان کی زمینوں پر قابض ہے دوسری جانب وہ انہیں احتجاج کے جمہوری حق سے بھی محروم رکھنا چاہتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں