آپ لوگوں کوبھی مزہ آتاہے روزآتے ہوئے، مچلکے جمع نہیں کرائے تو جیل بھیج دوں گا، جج

اسلام آباد : اسحاق ڈارکے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس میں ملزمان پر فردجرم عائد آج بھی عائد نہ ہو سکی، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آتے ہی فردجرم عائد نہ کرنے کی استدعا کر دیتے ہیں آپ لوگوں کوبھی مزہ آتا ہے روز آتے ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت ہوئی ، احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی، نامزد ملزمان سعید احمد،نعیم محمود اور منصوررضاعدالت میں پیش ہوئے، ملزمان کے وکیل حشمت حبیب پیش نہ ہوئے۔

معاون وکیل نے کہا کہ وکیل کی عدم موجودگی پرسماعت ایک دن ملتوی کردیں، جس پر نیب نے استدعا کی کہ فردجرم عائدکریں، وکیل کی ضرور  نہیں۔

فاضل جج نے استفسار کیا کہ ایک دن سے کیا ہوگا،آپ لوگ روزآتے ہیں، معاون وکیل کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کےحکم نامے کی کاپی آج مل جائےگی، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حکم نامے کی کاپی کے لیے رجوع کیا ہے،آج مل جائے گی۔

دوران سماعت صدر نیشنل بینک سعیداحمد نے کہا کہ موقع دیں، دیکھتے ہیں ہائی کورٹ کے حکم میں کیا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا کہ میں بتارہا ہوں کچھ نہیں ہے آپ کی درخواست ہائی کورٹ نےخارج کردی ہے۔

فاضل جج نے نیب سے استفسار کیا کہ مقدمےکے دیگر ملزمان کہاں ہیں، نیب نے جواب دیا کہ جی آئے ہیں دونوں ملزمان۔

جج نے ملزمان سےاستفسار کیا کہ آپ لوگوں کوبھی مزہ آتاہےروزآتےہوئے، آتے ہی فرد جرم عائد نہ کرنےکی استدعا کردیتے ہیں، ملزمان نے جواب دیا کہ ہم لاہورسےآتےہیں کافی مشکل ہوتی ہے، فاضل جج نے کہا کہ وکیل کی عدم موجودگی،سماعت ملتوی کرنےکی درخواست جمع کرادیں۔

اسحاق ڈارکے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت میں ملزمان کی جانب سے مچلکے داخل کرانے کا حکم واپس لینے کی درخواست کی ،جج محمد بشیر نے ملزمان کی درخواست مستردکر دی۔

جج محمدبشیر نے کہا کہ آج ہی مچلکےجمع نہ کرائےتو جیل بھیج دوں گا، جس کے بعد ملزمان نے فوری طور پر 20لاکھ کے مچلکے جمع کرادیے، ملزمان میں صدرنیشنل بینک سعیداحمد،ہجویری گروپ کے 2ڈائریکٹرز شامل

بعد ازاں وکیل حشمت حبیب کی عدم حاضری کے باعث ملزمان پر فردجرم عائد نہ کی جاسکی اور سماعت2اپریل تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ 26 فروری کو نیب نے اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد خان سمیت 3 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ آمدن سےزائد اثاثہ جات ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب کی سربراہی میں نیب پراسیکیوشن ونگ نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں ، داماد اور اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسزدائرکیے تھے۔قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے شریف خاندان کے خلاف 3 اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف 1 ریفرنس دائر کیا تھا۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف سیکشن 14 سی لگائی گئی ہے، جو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے۔ نیب کی دفعہ 14 سی کی سزا 14 سال مقرر ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Source by [author_name]

اپنا تبصرہ بھیجیں